جمعہ 25 ستمبر 2026 - 01:28
علماء اپنے علاقوں میں ’’حسینی کلاسز‘‘ کے ذریعے دینی و فکری تربیت کا سلسلہ شروع کریں، مولانا ابن حسن املوی

حوزہ/ مجمع علماء و واعظین پوروانچل کے سربراہ مولانا ابن حسن املوی نے ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے تحت مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی میں منعقدہ ایک روزہ تعلیمی، تربیتی و اصلاحی اجتماع کے اختتام پر منظور شدہ تجاویز و قراردادوں کا اعلان کرتے ہوئے علماء کرام سے اپنے علاقوں میں ’’حسینی کلاسز‘‘ کے قیام، نوجوانوں کی دینی و فکری تربیت، عزاداری کے تحفظ و اصلاح، علماء و مومنین کے درمیان اتحاد اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علماء و واعظین پوروانچل کے سربراہ حجۃ الاسلام مولانا ابن حسن املوی نے ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے تحت مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی میں منعقدہ ایک روزہ تعلیمی، تربیتی و اصلاحی پروگرام کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی دینی پروگرام محض نشست و برخاست کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی فکری و دینی اصلاح اور عملی منصوبہ بندی کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کے پائیدار حل کے لیے تجاویز اور سفارشات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی مرحلہ فکری و تحقیقی کاوشوں کو عملی شکل دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجمع علماء و واعظین پوروانچل اور مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی کے اشتراک سے 18 ستمبر 2026ء کو منعقدہ ’’حسینی مشن‘‘ کے اس پروگرام میں علماء و دانشوران کے اتفاقِ رائے سے متعدد تجاویز و قراردادیں منظور کی گئی ہیں، جن کا مقصد دینی تعلیم، تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ، عزاداری کے تحفظ، نوجوانوں کی تربیت اور علماء کے درمیان اتحاد و عمل کو فروغ دینا ہے۔

’’حسینی کلاسز‘‘ کے قیام کی تجویز

مولانا ابن حسن املوی نے بتایا کہ مجمع علماء و واعظین پوروانچل کے زیر اہتمام آئندہ بھی ایسے عظیم الشان پروگرام منعقد کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہر عالمِ دین کو اپنے علاقے میں کم از کم پانچ بچوں یا شاگردوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ بنیاد پر ’’حسینی کلاسز‘‘ قائم کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔

ان کلاسز میں قرآن و دینیات کی تعلیم کے ساتھ نوجوانوں میں فکری شعور پیدا کرنے، معاشرے میں موجود بے راہ روی سے آگاہ کرنے، محراب و منبر کی عظمت اور دیگر ضروری دینی و سماجی مسائل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

قرارداد کے مطابق آئندہ ہونے والے جلسے میں علماء کو اپنے اپنے پانچ شاگردوں کے ہمراہ شرکت کی دعوت دی جائے گی، جبکہ ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے تحت قائم ہونے والی حسینی کلاسز میں ایک سال کے دوران علماء کی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر سالانہ اجتماع میں کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔

علماء، خطباء اور مومنین کے درمیان اتحاد پر زور

منظور شدہ تجاویز میں علماء، واعظین، خطباء، ذاکرین اور مومنین کے درمیان اتحاد و عمل کو فروغ دینے کے لیے مختلف علاقوں میں ششماہی یا سالانہ اصلاحی اجتماعات کے انعقاد کو بھی ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

عزاداری کے تحفظ اور تحریفات کی روک تھام پر خصوصی توجہ

قراردادوں میں تحفظِ عزاداری اور مراسمِ عزا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ علماء کرام کو ماتمی انجمنوں اور بانیانِ مجالس کے ساتھ خوشگوار اور مؤثر رابطہ برقرار رکھنا چاہیے، تاکہ نوحہ خوانی اور عزاداری کی مجالس میں نامناسب انداز و رسومات کی اصلاح کی جا سکے۔

اس سلسلے میں غیر معتبر روایات و واقعات، نامناسب رسومات، نوحہ خوانی کے غیر مناسب انداز، مجالس میں غیر شائستہ طرزِ خطابت، نمود و نمائش اور مقابلہ آرائی سے اجتناب پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی مجالس و جلوسوں میں معتبر تاریخی کتب اور مستند علماء کی بیان کردہ روایات پر اعتماد کرنے اور امام حسین علیہ السلام کے اصل پیغام، بالخصوص امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اقامتِ دین، کو عزاداری کے ذریعے عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

علماء سے رجوع اور حفظِ مراتب کی تاکید

منظور شدہ تجاویز میں دینی و عزاداری کے معاملات میں مراجعِ عظام اور محقق و مستند علماء سے رہنمائی حاصل کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ بدعات اور تحریفات کا بروقت تدارک کیا جاسکے۔

اسی طرح علماء و واعظین و خطباء و ذاکرین کے علمی مراتب اور مقام کا احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر صاحبِ علم کی قدر و منزلت اس کے علمی مقام کے اعتبار سے ملحوظ رکھی جائے، کیونکہ صاحبانِ علم کے مراتب کا احترام عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔

دینی و عصری تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ

مولانا ابن حسن املوی نے اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے کہا کہ قوم کے لڑکوں اور لڑکیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے حصول کی جانب بھی راغب کیا جائے اور نوجوانوں کو تعمیری ضروریات کی طرف متوجہ کیا جائے، جن میں اسکول، کالج اور کمیونٹی ہال جیسے اداروں کا قیام بھی شامل ہے۔

انہوں نے محراب و منبر، مسجد، مجلس اور جلوسِ عزا کے آداب و احترام کو بھی دینی و اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت کے مقامات اور دینی شعائر سے وابستہ مقامات پر نامناسب اور غیر مہذب حرکات سے اجتناب ضروری ہے۔

اختتام پر مولانا ابن حسن املوی نے پروگرام میں شریک تمام علماء، دانشوران، سامعین اور ناظرین کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص حجۃ الاسلام والمسلمین آیت اللہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی، نمائندہ ولیِ فقیہ برائے ہند، کی شرکت کو باعثِ حوصلہ قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امت کے اتحاد، دینی و تبلیغی سرگرمیوں کے فروغ اور نظامِ ولایتِ فقیہ کے استحکام کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha